مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کھیلوں کا سامان بنانے والی معروف عالمی کمپنی ایڈیڈاس کی نئی تشہیری مہم میں ایک اسرائیلی فوجی کو شامل کیے جانے پر دنیا بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم تیز ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیڈاس نے اپنی نئی تشہیری مہم کے لیے شالیو بیتون نامی سابق صہیونی فوجی کا انتخاب کیا ہے، جس نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران اپنی ایک ٹانگ کھو دی تھی۔
شالیو بیتون غاصب صیہونی فوج کی ناحال بریگیڈ میں نشانہ باز رہ چکا ہے۔ وہ اس وقت زخمی ہوا جب اس کی فوجی گاڑی کو ایک ٹینک شکن میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی ٹانگ ضائع ہوگئی۔
26 اگست کو بیتون کی ایڈیڈاس کی تشہیری مہم میں شرکت کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کمپنی کے خلاف شدید ردعمل شروع ہوگیا۔ صارفین نے ’’ایڈیڈاس کا بائیکاٹ کرو‘‘ کے عنوان سے مہم چلاتے ہوئے کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا کارکنوں نے ایڈیڈاس پر غزہ میں فلسطینی عوام، بالخصوص بچوں کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ کارکنوں نے فلسطینی بچوں کی ایسی تصاویر بھی شیئر کیں جو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اپنی ٹانگیں کھو چکے ہیں اور اب چلنے کے لیے بیساکھیوں کا سہارا لیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک صہیونی فوجی کی جنگ کے دوران زخمی ہونے کی کہانی کو تجارتی اشتہار کا حصہ بنانا اس وقت انتہائی قابلِ اعتراض ہے، جب غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی بچے بھی اپنے اعضا سے محروم ہوچکے ہیں۔
امریکی ٹک ٹاک صارف گائے کرسٹنسن، جن کے تقریباً 37 لاکھ پیروکار ہیں، نے بھی ایڈیڈاس کے اس اشتہار پر شدید تنقید کی اور اسے انتہائی ناگوار قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ ایڈیڈاس کو اپنی تشہیری مہم کے لیے ایسے شخص کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے تھا جو غزہ کی جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے براہِ راست وابستہ رہا ہو۔
آپ کا تبصرہ